کھیڑا / چھوٹا اد ے پور / گجرات 11دسمبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا ) بی جے پی کو گجرات اسمبلی انتخابات کے دوران مشرقی گجرات میں اپنی پوزیشن بہتر ہونے کی امید ہے۔ پارٹی کو لگتا ہے کہ سابق وزیر اعلیٰ شنکر سنگھ واگھیلا کا کانگریس چھوڑنے کا فیصلہ اس کے حق میں کام کرے گا۔بی جے پی لیڈروں نے کہا کہ وہ ان امیدواروں پر بھی انحصار کر رہے ہیں جنہوں نے کانگریس چھوڑ کر بی جے پی کا دامن تھاما ہے۔ علاقے میں پا ٹی داروں کے خلاف رجحان بھی اہم ہے۔ جسے اکثر اس علاقے میں چھتریہ۔ہریجن۔قبائلی اور مسلم ووٹرس ہیں۔ احمد آباد، وڈودرا وغیرہ پر مشتمل اس علاقے میں گزشتہ انتخابات میں بی جے پی نے 61 میں سے 35 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔ اس بار بی جے پی یہاں اپنی اپنی نشستوں کی تعداد بڑھانے کے لئے کوشش کر رہی ہے۔ مرکزی وزیر نریندر سنگھ تومر علاقے میں 90 دنوں سے خیمہ زن ہیں ۔ انہیں یقین ہے کہ ان کی پارٹی کم از کم 40 نشستوں پر جیت درج کرے گی ۔ تومر نے بتایا کہ میں نے پورے علاقے کا دورہ کیا ہے اور ہمارے حامی متحد ہیں۔ کانگریس کے اپنے کارکن ہی نہیں ہے۔ تومر نے مانا کہ واگھیلا ایک ہائی پروفائل لیڈر ہیں ؛ لیکن ان کی پارٹی اس بار انتخابی میدان میں نہیں ہے ۔ یونین کے انچارج تنظیم سیکرٹری دھامیش مہتا اگرچہ مانتے ہیں کہ اس بار مقابلہ گزشتہ انتخابات سے زیادہ سخت ہے ۔ واگھیلا فیکٹر کو لے کر وہ تومر سے اتفاق رکھتے ہیں ۔مہتا نے کہا کہ ' واگھیلا کی غیر موجودگی سے بی جے پی کو مدد ملے گی۔ یہ دوسری صورت مشکل ہوتی ہے ؛ کیونکہ وہ تمام چھتریہ ذاتوں میں مؤثر شخصیت کے حامل ہیں ۔ ان کا تقریباً آٹھ فیصد ووٹ بینک پر کافی مضبوط گرفت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ علاقائی کمیونٹی کا ایک چوتھائی کانگریس کے ہاردک پٹیل سے ہاتھ ملانے کو لے کر ناراض ہے۔ کچھ کانگریسی لیڈر بھی مانتے ہیں کہ رہنماؤں کی کمی کا پارٹی کے انتخابی منظر نامے پر اثر پڑے گا۔